❤🇵🇰مآشاء اللہ جی سبحان اللہ 💚🇵🇰 ❤میری جان جوانی حق باھو میرا دل برجانی 💚 💚حق با ھو میری سانسوں کی راوانی حق باھو ❤ ❤آک نظر کرم دی ٹک با ھو سچ باھو بشک با ھو 💚
1ہفتہ کے پہلے دِن مرؔیم مگدلِینی اَیسے تڑکے کہ ابھی اندھیرا ہی تھا قبر پر آئی اور پتّھر کو قبر سے ہٹا ہُؤا دیکھا۔ 2پس وہ شمعُو ن پطرس اور اُس دُوسرے شاگِرد کے پاس جِسے یِسُو ع عزِیز رکھتا تھا دَوڑی ہُوئی گئی اور اُن سے کہا کہ خُداوند کو قبر سے نِکال لے گئے اور ہمیں معلُوم نہیں کہ اُسے کہاں رکھ دِیا۔ 3پس پطر س اور وہ دُوسرا شاگِرد نِکل کر قبر کی طرف چلے۔ 4اور دونوں ساتھ ساتھ دَوڑے مگر وہ دُوسرا شاگِرد پطر س سے آگے بڑھ کر قبر پر پہلے پُہنچا۔ 5اُس نے جُھک کر نظر کی اور سُوتی کپڑے پڑے ہُوئے دیکھے مگر اَندر نہ گیا 6شمعُو ن پطرس اُس کے پِیچھے پِیچھے پُہنچا اور اُس نے قبر کے اَندر جا کر دیکھا کہ سُوتی کپڑے پڑے ہیں۔ 7اور وہ رُومال جو اُس کے سر سے بندھا ہُؤا تھا سُوتی کپڑوں کے ساتھ نہیں بلکہ لِپٹا ہُؤا ایک جگہ اَلگ پڑا ہے۔ 8اِس پر دُوسرا شاگِرد بھی جو پہلے قبر پر آیا تھا اَندر گیا اور اُس نے دیکھ کر یقِین کِیا۔ 9کیونکہ وہ اب تک اُس نوِشتہ کو نہ جانتے تھے جِس کے مُطابِق اُس کا مُردوں میں سے جی اُٹھنا ضرُور تھا۔ 10پس یہ شاگِرد اپنے گھر کو واپس گئے۔ یِسُوؔع مرؔیم مگدلینی پر ظاہر ہوتا ہے ( متّی ۲۸:۹-۱۰؛ مرقس ۱۶: ۹-۱۱) 11لیکن مرؔیم باہر قبر کے پاس کھڑی روتی رہی اور جب روتے روتے قبر کی طرف جُھک کر اندر نظر کی۔ 12تو دو فرِشتوں کو سفید پوشاک پہنے ہُوئے ایک کو سرہانے اور دُوسرے کو پَینتانے بَیٹھے دیکھا جہاں یِسُو ع کی لاش پڑی تھی۔ 13اُنہوں نے اُس سے کہا اَے عَورت تُو کیوں روتی ہے؟ اُس نے اُن سے کہا اِس لِئے کہ میرے خُداوند کو اُٹھا لے گئے ہیں اور معلُوم نہیں کہ اُسے کہاں رکھّا ہے۔ 14یہ کہہ کر وہ پِیچھے پِھری اور یِسُو ع کو کھڑے دیکھا اور نہ پہچانا کہ یہ یِسُو ع ہے۔ 15یِسُو ع نے اُس سے کہا اَے عَورت تُو کیوں روتی ہے؟ کِس کو ڈُھونڈتی ہے؟ اُس نے باغبان سمجھ کر اُس سے کہا مِیاں اگر تُو نے اُس کو یہاں سے اُٹھایا ہو تو مُجھے بتا دے کہ اُسے کہاں رکھّا ہے تاکہ مَیں اُسے لے جاؤں۔ 16یِسُو ع نے اُس سے کہا مرؔیم ! اُس نے مُڑ کر اُس سے عِبرا نی زُبان میں کہا ربُّ ونی! یعنی اَے اُستاد!۔ 17یِسُو ع نے اُس سے کہا مُجھے نہ چُھو کیونکہ مَیں اب تک باپ کے پاس اُوپر نہیں گیا لیکن میرے بھائِیوں کے پاس جا کر اُن سے کہہ کہ مَیں اپنے باپ اور تُمہارے باپ اور اپنے خُدا اور تُمہارے خُدا کے پاس اُوپر جاتا ہُوں۔ 18مر یم مگدلِینی نے آ کر شاگِردوں کو خبر دی کہ مَیں نے خُداوند کو دیکھا اور اُس نے مُجھ سے یہ باتیں کہِیں۔ یِسُوؔع اپنے شاگِردوں پر ظاہِر ہوتاہے (متّی ۲۸:۱۶-۲۰؛ مرقس ۱۶: ۱۴-۱۸؛ لُوقا ۲۴: ۳۶-۴۹) 19پِھر اُسی دِن جو ہفتہ کا پہلا دِن تھا شام کے وقت جب وہاں کے دَروازے جہاں شاگِرد تھے یہُودِیوں کے ڈر سے بند تھے یِسُو ع آ کر بِیچ میں کھڑا ہُؤا اور اُن سے کہا تُمہاری سلامتی ہو!۔ 20اور یہ کہہ کر اُس نے اپنے ہاتھوں اور پسلی کو اُنہیں دِکھایا ۔ پس شاگِرد خُداوند کو دیکھ کر خُوش ہُوئے۔ 21یِسُو ع نے پِھر اُن سے کہا تُمہاری سلامتی ہو! جِس طرح باپ نے مُجھے بھیجا ہے اُسی طرح مَیں بھی تُمہیں بھیجتا ہُوں۔ 22اور یہ کہہ کر اُن پر پُھونکا اور اُن سے کہا رُوحُ القُدس لو۔ 23جِن کے گُناہ تُم بخشو اُن کے بخشے گئے ہیں ۔ جِن کے گُناہ تُم قائِم رکھّو اُن کے قائِم رکھے گئے ہیں۔ یِسُوؔع اور توما 24مگر اُن بارہ میں سے ایک شخص یعنی تو ما جِسے تواَ م کہتے ہیں یِسُو ع کے آنے کے وقت اُن کے ساتھ نہ تھا۔ 25پس باقی شاگِرد اُس سے کہنے لگے کہ ہم نے خُداوند کو دیکھا ہے مگر اُس نے اُن سے کہا جب تک مَیں اُس کے ہاتھوں میں میخوں کے سُوراخ نہ دیکھ لُوں اور میخوں کے سُوراخوں میں اپنی اُنگلی نہ ڈال لُوں اور اپنا ہاتھ اُس کی پسلی میں نہ ڈال لُوں ہرگِز یقِین نہ کرُوں گا۔ 26آٹھ روز کے بعد جب اُس کے شاگِرد پِھر اندر تھے اور توما اُن کے ساتھ تھا اور دَروازے بند تھے یِسُو ع نے آ کر اور بِیچ میں کھڑا ہو کر کہا تُمہاری سلامتی ہو۔ 27پِھر اُس نے تو ما سے کہا اپنی اُنگلی پاس لا کر میرے ہاتھوں کو دیکھ اور اپنا ہاتھ پاس لا کر میری پسلی میں ڈال اور بے اِعتقاد نہ ہو بلکہ اِعتقاد رکھ۔ 28تو ما نے جواب میں اُس سے کہا اَے میرے خُداوند! اَے میرے خُدا!۔ 29یِسُو ع نے اُس سے کہا تُو تو مُجھے دیکھ کر اِیمان لایا ہے ۔ مُبارک وہ ہیں جو بغَیر دیکھے اِیمان لائے۔ اِس کِتا ب کا مقصد 30اور یِسُو ع نے اَور بُہت سے مُعجِزے شاگِردوں کے سامنے دِکھائے جو اِس کِتاب میں لِکھے نہیں گئے۔ 31لیکن یہ اِس لِئے لِکھے گئے کہ تُم اِیمان لاؤ کہ یِسُو ع ہی خُدا کا بیٹا مسِیح ہے اور اِیمان لا کر اُس کے نام سے زِندگی پاؤ۔
1یِسُو ع یہ باتیں کہہ کر اپنے شاگِردوں کے ساتھ قِدرو ن کے نالے کے پار گیا ۔وہاں ایک باغ تھا۔ اُس میں وہ اور اُس کے شاگِرد داخِل ہُوئے۔ 2اور اُس کا پکڑوانے والا یہُودؔا ہ بھی اُس جگہ کو جانتا تھا کیونکہ یِسُو ع اکثر اپنے شاگِردوں کے ساتھ وہاں جایا کرتا تھا۔ 3پس یہُودؔا ہ سِپاہِیوں کی پلٹن اور سردار کاہِنوں اور فرِیسِیوں سے پیادے لے کر مشعلوں اور چراغوں اور ہتھیاروں کے ساتھ وہاں آیا۔ 4یِسُو ع اُن سب باتوں کو جو اُس کے ساتھ ہونے والی تِھیں جان کر باہر نِکلا اور اُن سے کہنے لگا کہ کِسے ڈُھونڈتے ہو؟۔ 5اُنہوں نے اُسے جواب دِیا یِسُوؔع ناصری کو ۔ یِسُوؔع نے اُن سے کہا مَیں ہی ہُوں اور اُسکا پکڑوانے والا یہُودؔا ہ بھی اُن کے ساتھ کھڑا تھا۔ 6اُس کے یہ کہتے ہی کہ مَیں ہی ہُوں وہ پِیچھے ہٹ کر زمِین پر گِرپڑے۔ 7پس اُس نے اُن سے پِھر پُوچھا کہ تُم کِسے ڈُھونڈتے ہو؟ اُنہوں نے کہا یِسُو ع ناصری کو۔ 8یِسُوؔع نے جواب دِیا کہ مَیں تُم سے کہہ تو چُکا کہ مَیں ہی ہُوں ۔ پس اگر مُجھے ڈُھونڈتے ہو تو اِنہیں جانے دو۔ 9یہ اُس نے اِس لِئے کہا کہ اُس کا وہ قَول پُورا ہو کہ جِنہیں تُو نے مُجھے دِیا مَیں نے اُن میں سے کِسی کو بھی نہ کھویا۔ 10پس شمعُو ن پطرس نے تلوار جو اُس کے پاس تھی کھینچی اور سردار کاہِن کے نَوکر پر چلا کر اُس کا دہنا کان اُڑا دِیا ۔ اُس نَوکر کا نام ملخُس تھا۔ 11یِسُوؔع نے پطر س سے کہا تلوار کو مِیان میں رکھ ۔ جو پیالہ باپ نے مُجھ کو دِیا کیا مَیں اُسے نہ پِیُوں؟۔ یسوع کی حنّا کے سامنے پیشی 12تب سِپاہِیوں اور اُن کے صُوبہ دار اور یہُودِیوں کے پیادوں نے یِسُوؔع کو پکڑ کر باندھ لِیا۔ 13اور پہلے اُسے حنّا کے پاس لے گئے کیونکہ وہ اُس برس کے سردار کاہِن کائِفا کا سُسر تھا۔ 14یہ وُہی کائِفا تھا جِس نے یہُودِیوں کو صلاح دی تھی کہ اُمّت کے واسطے ایک آدمی کا مَرنا بِہتر ہے۔ پطرس یِسُوؔع کا اِنکار کرتا ہے (متّی۲۶:۶۹-۷۰؛مرقس۱۴:۶۶-۶۸؛لُوقا۲۲: ۵۵-۵۷) 15اور شمعُو ن پطرس یِسُو ع کے پِیچھے ہو لِیا اور ایک اَور شاگِرد بھی ۔ یہ شاگِرد سردار کاہِن کا جان پہچان تھا اور یِسُو ع کے ساتھ سردار کاہِن کے دِیوان خانہ میں گیا۔ 16لیکن پطر س دروازہ پر باہر کھڑا رہا ۔ پس وہ دُوسرا شاگِرد جو سردار کاہِن کا جان پہچان تھا باہر نِکلا اور دربان عَورت سے کہہ کر پطر س کو اندر لے گیا۔ 17اُس لَونڈی نے جو دربان تھی پطر س سے کہا کیا تُو بھی اِس شخص کے شاگِردوں میں سے ہے؟ اُس نے کہا مَیں نہیں ہُوں۔ 18نَوکر اور پیادے جاڑے کے سبب سے کوئِلے دہکا کر کھڑے تاپ رہے تھے اور پطر س بھی اُن کے ساتھ کھڑا تاپ رہا تھا۔ سردار کاہِن یِسُوؔع پر جرح کرتاہے (متّی۲۶:۵۹-۶۶؛مرقس۱۴:۵۵-۶۴؛ لُوقا ۲۲:۶۶-۷۱) 19پِھرسردار کاہِن نے یِسُو ع سے اُس کے شاگِردوں اور اُس کی تعلِیم کی بابت پُوچھا۔ 20یِسُو ع نے اُسے جواب دِیا کہ مَیں نے دُنیا سے عِلانِیہ باتیں کی ہیں ۔ مَیں نے ہمیشہ عِبادت خانوں اور ہَیکل میں جہاں سب یہُودی جمع ہوتے ہیں تعلِیم دی اور پوشِیدہ کُچھ نہیں کہا۔ 21تُو مُجھ سے کیوں پُوچھتا ہے؟ سُننے والوں سے پُوچھ کہ مَیں نے اُن سے کیا کہا ۔ دیکھ اُن کو معلُوم ہے کہ مَیں نے کیا کیا کہا۔ 22جب اُس نے یہ کہا تو پیادوں میں سے ایک شخص نے جو پاس کھڑا تھا یِسُو ع کے طمانچہ مار کر کہا تُو سردار کاہِن کو اَیسا جواب دیتا ہے؟۔ 23یِسُو ع نے اُسے جواب دِیا کہ اگر مَیں نے بُرا کہا تو اُس بُرائی پر گواہی دے اور اگر اچھّا کہا تو مُجھے مارتا کیوں ہے؟۔ 24پس حنّا نے اُسے بندھا ہُؤا سردار کاہِن کائِفا کے پاس بھیج دِیا۔ پطرس یِسُوؔع کا دوبارہ اِنکار کرتاہے (متّی۲۶:۷۱-۷۵؛مرقس۱۴:۶۹-۷۲؛ لُوقا ۲۲: ۵۸-۶۲) 25شمعُو ن پطر س کھڑا تاپ رہا تھا ۔ پس اُنہوں نے اُس سے کہا کیا تُو بھی اُسکے شاگِردوں میں سے ہے؟ اُس نے اِنکار کر کے کہا مَیں نہیں ہُوں۔ 26جِس شخص کا پطر س نے کان اُڑا دِیا تھا اُس کے ایک رِشتہ دار نے جو سردار کاہِن کا نَوکر تھا کہا کیا مَیں نے تُجھے اُس کے ساتھ باغ میں نہیں دیکھا؟۔ 27پطر س نے پِھر اِنکار کِیا اور فَوراً مُرغ نے بانگ دی۔ یِسُوؔع کی پیلاطُس کے سامنے پیشی (متّی ۲۷:۱-۲،۱۱-۱۴؛ مرقس ۱۵:۱-۵؛ لُوقا ۲۳:۱-۵ ) 28پِھر وہ یِسُو ع کو کائِفا کے پاس سے قلعہ کو لے گئے اور صُبح کا وقت تھا اور وہ خُود قلعہ میں نہ گئے تاکہ ناپاک نہ ہوں بلکہ فَسح کھا سکیں۔ 29پس پِیلا طُس نے اُن کے پاس باہر آ کر کہا تُم اِس آدمی پر کیا اِلزام لگاتے ہو؟۔ 30اُنہوں نے جواب میں اُس سے کہا کہ اگر یہ بدکار نہ ہوتا تو ہم اِسے تیرے حوالہ نہ کرتے۔ 31پِیلا طُس نے اُن سے کہا اِسے لے جا کر تُم ہی اپنی شرِیعت کے مُوافِق اِس کا فَیصلہ کرو ۔ یہُودِیوں نے اُس سے کہا ہمیں رَوا نہیں کہ کِسی کو جان سے ماریں۔ 32یہ اِسلِئے ہُؤا کہ یِسُو ع کی وہ بات پُوری ہو جو اُس نے اپنی مَوت کے طرِیق کی طرف اِشارہ کر کے کہی تھی۔ 33پس پِیلا طُس قلعہ میں پِھر داخِل ہُؤا اور یِسُو ع کو بُلا کر اُس سے کہا کیا تُو یہُودِیوں کا بادشاہ ہے؟۔ 34یِسُو ع نے جواب دِیا کہ تُو یہ بات آپ ہی کہتا ہے یا اَوروں نے میرے حق میں تُجھ سے کہی؟۔ 35پِیلا طُس نے جواب دِیا کیا مَیں یہُودی ہُوں؟ تیری ہی قَوم اور سردار کاہِنوں نے تُجھ کو میرے حوالہ کِیا۔ تُو نے کیا کِیا ہے؟۔ 36یِسُوؔع نے جواب دِیا کہ میری بادشاہی اِس دُنیا کی نہیں ۔ اگر میری بادشاہی دُنیا کی ہوتی تو میرے خادِم لڑتے تاکہ مَیں یہُودِیوں کے حوالہ نہ کِیا جاتا ۔ مگر اب میری بادشاہی یہاں کی نہیں۔ 37پِیلا طُس نے اُس سے کہا پس کیا تُو بادشاہ ہے؟ یِسُو ع نے جواب دِیا تُو خُود کہتا ہے کہ مَیں بادشاہ ہُوں ۔ مَیں اِس لِئے پَیدا ہُؤا اور اِس واسطے دُنیا میں آیاہُوں کہ حق پر گواہی دُوں ۔ جو کوئی حقّانی ہے میری آواز سُنتا ہے۔ یِسُوؔع کو سزائے مَوت سُنائی جاتی ہے (متّی ۲۷:۱۵-۳۱؛ مرقس ۱۵:۶-۲۰؛ لُوقا ۲۳: ۱۳-۲۵) 38پِیلاطُس نے اُس سے کہا حق کیا ہے؟ یہ کہہ کر وہ یہُودِیوں کے پاس پِھر باہِر گیا اور اُن سے کہا کہ مَیں اُس کا کُچھ جُرم نہیں پاتا۔ 39مگر تُمہارا دَستُور ہے کہ مَیں فَسح پر تُمہاری خاطِر ایک آدمی چھوڑ دِیا کرتا ہُوں ۔ پس کیا تُم کو منظُور ہے کہ مَیں تُمہاری خاطِر یہُودِیوں کے بادشاہ کو چھوڑ دُوں؟۔ 40اُنہوں نے چِلاّ کر پِھر کہا کہ اِس کو نہیں لیکن برابّا کو ۔ ا ور برابّا ایک ڈاکُو تھا۔
لبیک لبیک یا رسول اللہ تاجدار ختم نبوت زندہ باد زندہ باد
لبیک لبیک لبیک یا رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم تاجدار ختم نبوت زندہ باد زندہ باد زندہ باد من سب نبیا فاقتلوہ
کلمہ طیبہ ہمارے دین کی اساس و خشتِ اول ہے
واعلیکم اسلام ۔ اسلام و علیکم ۔
سبحان اللہ جی
سبحان الله ،❣️❣️❣️
🌹صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم🌹
ماشاءاللہ سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ 🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹 بےشک سرکار لجپال
ماشاءاللہ سبحان اللہ سبحان اللہ 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰 بےشک باھو رح
ماشاءاللہ سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ 🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹 🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰 بر حق ❤❤❤❤❤
❤ اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاسَیَّدِیْ یَارَسُوْلَ اللہﷺ ❤
❤ اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاسَیَّدِیْ یَاحَبِیْبَ اللہﷺ ❤
❤🇵🇰مآشاء اللہ جی سبحان اللہ 💚🇵🇰
❤میری جان جوانی حق باھو میرا دل برجانی 💚
💚حق با ھو میری سانسوں کی راوانی حق باھو ❤
❤آک نظر کرم دی ٹک با ھو سچ باھو بشک با ھو 💚
SubhanAllah SubhanAllah beshak beshak
Subhan'ALLAH Subhan'ALLAH
میرا سوہنا مرشد حق باھو سچ باھو ❤
ماشاءاللہ
دلبرانہ اندازِ سخن
اے کلمہ مینوں پیر پڑھایا میں سدا سہاگن ہوئی ھو 🌹
ماشاءاللہ
ماشااللہ
بہت خوبصورت گفتگو۔سبحان الله
Masallah Allah pak ap ko zindingi atta kra
💚💚 صلی الله علیہ وآلہ وسلم 💚💚
سبخان اللہ سبخان اللہ
ماشاء اللہ ماشاء اللہ
❣🌹سبحــــــــان اللّٰہ🌹❣
❤️ لا الہ الاالله محمد رسول الله ❤️
ماشاء اللّٰہ
سبحان اللّٰه ❣️
سبحان الله
ماشاءاللہ سبحان الللہ
رمضان المبارک
🌹🌹🌹سوہنے مرشد پاک.. ❤️❤️🌷
masha Allah
ماشاءاللہ بہت ہی خوبصورت انداز و کلام😍♥️
Subhan Allah ❤❤❤❤❤ Mash Allah ❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
MashahALLAH
Mashallh
سبحان اللہ♥️🇵🇰♥️
ماشاءاللہ💞🇵🇰💞
سبحان اللّٰہ سبحان اللّٰہ
Masha Allah Pakistan
Subhan Allah subhan Allah❤
Masha Allah Subhan Allah❤
Maa Shaa Allah
الصلوة والسلام عليك يا رسول الله
Mashallah
Subhnallah
Wa alaikum us salaam
Wa rhmtullahi barakatuhu
Subhan Allah . Ilmi tehqeqi rohani Bryan Pak
Subhanallah Mashallah Jazakallah
walaikum as salaam
Beshak Beshak💕💕
MashAllah SubhanAllah
یا حضرت سخی سلطان احمد علی صاحب
در حقیقت کاملی المدد فی کل حال
در خفی و در جلی 🙏
MashaAllah
Subhan Allah haq bahoo such bahoo beshak bahoo
SUBHAN ALLAH MASHA ALLAH
وعلیکم السلام ورحمت اللہ وبرکتہ
Haq farmaya Sach farmaya
Ya murshid e Kareem
Allah ho
ماشاءالله
Subhan allah
Mashallah
SUBHAN ALLAH
MASHA ALLAH
💗💗💗💗💗💗
Haq Bahu Sach Bahu
Ik nazar Karam di tak Bahu
Subhan Allah ya Hazoor pak ❤️❤️❤️🌹
Beshak subhan Allah ❤️❤️❤️
ماشاء اللّٰہ❤
1ہفتہ کے پہلے دِن مرؔیم مگدلِینی اَیسے تڑکے کہ ابھی اندھیرا ہی تھا قبر پر آئی اور پتّھر کو قبر سے ہٹا ہُؤا دیکھا۔ 2پس وہ شمعُو ن پطرس اور اُس دُوسرے شاگِرد کے پاس جِسے یِسُو ع عزِیز رکھتا تھا دَوڑی ہُوئی گئی اور اُن سے کہا کہ خُداوند کو قبر سے نِکال لے گئے اور ہمیں معلُوم نہیں کہ اُسے کہاں رکھ دِیا۔
3پس پطر س اور وہ دُوسرا شاگِرد نِکل کر قبر کی طرف چلے۔ 4اور دونوں ساتھ ساتھ دَوڑے مگر وہ دُوسرا شاگِرد پطر س سے آگے بڑھ کر قبر پر پہلے پُہنچا۔ 5اُس نے جُھک کر نظر کی اور سُوتی کپڑے پڑے ہُوئے دیکھے مگر اَندر نہ گیا 6شمعُو ن پطرس اُس کے پِیچھے پِیچھے پُہنچا اور اُس نے قبر کے اَندر جا کر دیکھا کہ سُوتی کپڑے پڑے ہیں۔ 7اور وہ رُومال جو اُس کے سر سے بندھا ہُؤا تھا سُوتی کپڑوں کے ساتھ نہیں بلکہ لِپٹا ہُؤا ایک جگہ اَلگ پڑا ہے۔ 8اِس پر دُوسرا شاگِرد بھی جو پہلے قبر پر آیا تھا اَندر گیا اور اُس نے دیکھ کر یقِین کِیا۔ 9کیونکہ وہ اب تک اُس نوِشتہ کو نہ جانتے تھے جِس کے مُطابِق اُس کا مُردوں میں سے جی اُٹھنا ضرُور تھا۔ 10پس یہ شاگِرد اپنے گھر کو واپس گئے۔
یِسُوؔع مرؔیم مگدلینی پر ظاہر ہوتا ہے
( متّی ۲۸:۹-۱۰؛ مرقس ۱۶: ۹-۱۱)
11لیکن مرؔیم باہر قبر کے پاس کھڑی روتی رہی اور جب روتے روتے قبر کی طرف جُھک کر اندر نظر کی۔ 12تو دو فرِشتوں کو سفید پوشاک پہنے ہُوئے ایک کو سرہانے اور دُوسرے کو پَینتانے بَیٹھے دیکھا جہاں یِسُو ع کی لاش پڑی تھی۔ 13اُنہوں نے اُس سے کہا اَے عَورت تُو کیوں روتی ہے؟
اُس نے اُن سے کہا اِس لِئے کہ میرے خُداوند کو اُٹھا لے گئے ہیں اور معلُوم نہیں کہ اُسے کہاں رکھّا ہے۔
14یہ کہہ کر وہ پِیچھے پِھری اور یِسُو ع کو کھڑے دیکھا اور نہ پہچانا کہ یہ یِسُو ع ہے۔ 15یِسُو ع نے اُس سے کہا اَے عَورت تُو کیوں روتی ہے؟ کِس کو ڈُھونڈتی ہے؟
اُس نے باغبان سمجھ کر اُس سے کہا مِیاں اگر تُو نے اُس کو یہاں سے اُٹھایا ہو تو مُجھے بتا دے کہ اُسے کہاں رکھّا ہے تاکہ مَیں اُسے لے جاؤں۔
16یِسُو ع نے اُس سے کہا مرؔیم !
اُس نے مُڑ کر اُس سے عِبرا نی زُبان میں کہا ربُّ ونی! یعنی اَے اُستاد!۔
17یِسُو ع نے اُس سے کہا مُجھے نہ چُھو کیونکہ مَیں اب تک باپ کے پاس اُوپر نہیں گیا لیکن میرے بھائِیوں کے پاس جا کر اُن سے کہہ کہ مَیں اپنے باپ اور تُمہارے باپ اور اپنے خُدا اور تُمہارے خُدا کے پاس اُوپر جاتا ہُوں۔
18مر یم مگدلِینی نے آ کر شاگِردوں کو خبر دی کہ مَیں نے خُداوند کو دیکھا اور اُس نے مُجھ سے یہ باتیں کہِیں۔
یِسُوؔع اپنے شاگِردوں پر ظاہِر ہوتاہے
(متّی ۲۸:۱۶-۲۰؛ مرقس ۱۶: ۱۴-۱۸؛ لُوقا ۲۴: ۳۶-۴۹)
19پِھر اُسی دِن جو ہفتہ کا پہلا دِن تھا شام کے وقت جب وہاں کے دَروازے جہاں شاگِرد تھے یہُودِیوں کے ڈر سے بند تھے یِسُو ع آ کر بِیچ میں کھڑا ہُؤا اور اُن سے کہا تُمہاری سلامتی ہو!۔ 20اور یہ کہہ کر اُس نے اپنے ہاتھوں اور پسلی کو اُنہیں دِکھایا ۔ پس شاگِرد خُداوند کو دیکھ کر خُوش ہُوئے۔ 21یِسُو ع نے پِھر اُن سے کہا تُمہاری سلامتی ہو! جِس طرح باپ نے مُجھے بھیجا ہے اُسی طرح مَیں بھی تُمہیں بھیجتا ہُوں۔ 22اور یہ کہہ کر اُن پر پُھونکا اور اُن سے کہا رُوحُ القُدس لو۔ 23جِن کے گُناہ تُم بخشو اُن کے بخشے گئے ہیں ۔ جِن کے گُناہ تُم قائِم رکھّو اُن کے قائِم رکھے گئے ہیں۔
یِسُوؔع اور توما
24مگر اُن بارہ میں سے ایک شخص یعنی تو ما جِسے تواَ م کہتے ہیں یِسُو ع کے آنے کے وقت اُن کے ساتھ نہ تھا۔ 25پس باقی شاگِرد اُس سے کہنے لگے کہ ہم نے خُداوند کو دیکھا ہے
مگر اُس نے اُن سے کہا جب تک مَیں اُس کے ہاتھوں میں میخوں کے سُوراخ نہ دیکھ لُوں اور میخوں کے سُوراخوں میں اپنی اُنگلی نہ ڈال لُوں اور اپنا ہاتھ اُس کی پسلی میں نہ ڈال لُوں ہرگِز یقِین نہ کرُوں گا۔
26آٹھ روز کے بعد جب اُس کے شاگِرد پِھر اندر تھے اور توما اُن کے ساتھ تھا اور دَروازے بند تھے یِسُو ع نے آ کر اور بِیچ میں کھڑا ہو کر کہا تُمہاری سلامتی ہو۔ 27پِھر اُس نے تو ما سے کہا اپنی اُنگلی پاس لا کر میرے ہاتھوں کو دیکھ اور اپنا ہاتھ پاس لا کر میری پسلی میں ڈال اور بے اِعتقاد نہ ہو بلکہ اِعتقاد رکھ۔
28تو ما نے جواب میں اُس سے کہا اَے میرے خُداوند! اَے میرے خُدا!۔
29یِسُو ع نے اُس سے کہا تُو تو مُجھے دیکھ کر اِیمان لایا ہے ۔ مُبارک وہ ہیں جو بغَیر دیکھے اِیمان لائے۔
اِس کِتا ب کا مقصد
30اور یِسُو ع نے اَور بُہت سے مُعجِزے شاگِردوں کے سامنے دِکھائے جو اِس کِتاب میں لِکھے نہیں گئے۔ 31لیکن یہ اِس لِئے لِکھے گئے کہ تُم اِیمان لاؤ کہ یِسُو ع ہی خُدا کا بیٹا مسِیح ہے اور اِیمان لا کر اُس کے نام سے زِندگی پاؤ۔
سبحان الله 🌷💖🌷
بہت خوبصورت ماشاءالله 💞
Mashallah bashak mashallah ❤️♥️
ماشاءاللّٰه
MASHA ALLAH
ماشاءاللہ حضور سدا سلامت رہیں آمین
Subhaan Allah
MASHA ALLAH ❤️❤️💖
مجمع حشر میں گھبرائی ہوئی پھرتی ہے
ڈُھونڈنے نکلی ہے مجرم کو شفاعت آپکی...
"صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم"❤
Be_Shaq, Subhan Allah..❤
Mash Allah
بیشک حضور حضور
ماشاءاللّٰہ 🌹🌺🌹سبحان اللّٰہ 🌹🌺🥀
❣️🥀سبــــــحان اللـــــــــہﷻ🥀❣️
,❣️🥀ماشــــــــاءاللــــــــہﷻ🥀❣️
Masha Allah
❣️❣️❣️
Subhan allah
MashaAllah.. SubhanAllah
Haq Bahoo
واہ میرے مالک کیا علم اتارا آپ نے خود تک پہنچنے کے لیے۔۔۔۔۔سبحان الله
ماشاء الله
La illha illa Allah
🌹🌹🌹سبحان الله❤ماشاءاللہ🌹🌹🌹
بے شک
سبحان اللہﷻ 💞
💕صَلَّی اللَّهُ عَلَیْہِ وَاٰلِه وَسَلَّمَ 💕
💕الصلاة والسلام عليك یا خاتم النبین یا رحمتہ اللعالمین ﷺ💕
Slam aqa
❤
صلی اللہ علیہ والہ وسلم 💞
Masahl
ماشاءالله ❤❤❤
1یِسُو ع یہ باتیں کہہ کر اپنے شاگِردوں کے ساتھ قِدرو ن کے نالے کے پار گیا ۔وہاں ایک باغ تھا۔ اُس میں وہ اور اُس کے شاگِرد داخِل ہُوئے۔ 2اور اُس کا پکڑوانے والا یہُودؔا ہ بھی اُس جگہ کو جانتا تھا کیونکہ یِسُو ع اکثر اپنے شاگِردوں کے ساتھ وہاں جایا کرتا تھا۔ 3پس یہُودؔا ہ سِپاہِیوں کی پلٹن اور سردار کاہِنوں اور فرِیسِیوں سے پیادے لے کر مشعلوں اور چراغوں اور ہتھیاروں کے ساتھ وہاں آیا۔ 4یِسُو ع اُن سب باتوں کو جو اُس کے ساتھ ہونے والی تِھیں جان کر باہر نِکلا اور اُن سے کہنے لگا کہ کِسے ڈُھونڈتے ہو؟۔
5اُنہوں نے اُسے جواب دِیا یِسُوؔع ناصری کو ۔
یِسُوؔع نے اُن سے کہا مَیں ہی ہُوں اور اُسکا پکڑوانے والا یہُودؔا ہ بھی اُن کے ساتھ کھڑا تھا۔ 6اُس کے یہ کہتے ہی کہ مَیں ہی ہُوں وہ پِیچھے ہٹ کر زمِین پر گِرپڑے۔ 7پس اُس نے اُن سے پِھر پُوچھا کہ تُم کِسے ڈُھونڈتے ہو؟
اُنہوں نے کہا یِسُو ع ناصری کو۔
8یِسُوؔع نے جواب دِیا کہ مَیں تُم سے کہہ تو چُکا کہ مَیں ہی ہُوں ۔ پس اگر مُجھے ڈُھونڈتے ہو تو اِنہیں جانے دو۔ 9یہ اُس نے اِس لِئے کہا کہ اُس کا وہ قَول پُورا ہو کہ جِنہیں تُو نے مُجھے دِیا مَیں نے اُن میں سے کِسی کو بھی نہ کھویا۔
10پس شمعُو ن پطرس نے تلوار جو اُس کے پاس تھی کھینچی اور سردار کاہِن کے نَوکر پر چلا کر اُس کا دہنا کان اُڑا دِیا ۔ اُس نَوکر کا نام ملخُس تھا۔ 11یِسُوؔع نے پطر س سے کہا تلوار کو مِیان میں رکھ ۔ جو پیالہ باپ نے مُجھ کو دِیا کیا مَیں اُسے نہ پِیُوں؟۔
یسوع کی حنّا کے سامنے پیشی
12تب سِپاہِیوں اور اُن کے صُوبہ دار اور یہُودِیوں کے پیادوں نے یِسُوؔع کو پکڑ کر باندھ لِیا۔ 13اور پہلے اُسے حنّا کے پاس لے گئے کیونکہ وہ اُس برس کے سردار کاہِن کائِفا کا سُسر تھا۔ 14یہ وُہی کائِفا تھا جِس نے یہُودِیوں کو صلاح دی تھی کہ اُمّت کے واسطے ایک آدمی کا مَرنا بِہتر ہے۔
پطرس یِسُوؔع کا اِنکار کرتا ہے
(متّی۲۶:۶۹-۷۰؛مرقس۱۴:۶۶-۶۸؛لُوقا۲۲: ۵۵-۵۷)
15اور شمعُو ن پطرس یِسُو ع کے پِیچھے ہو لِیا اور ایک اَور شاگِرد بھی ۔ یہ شاگِرد سردار کاہِن کا جان پہچان تھا اور یِسُو ع کے ساتھ سردار کاہِن کے دِیوان خانہ میں گیا۔ 16لیکن پطر س دروازہ پر باہر کھڑا رہا ۔ پس وہ دُوسرا شاگِرد جو سردار کاہِن کا جان پہچان تھا باہر نِکلا اور دربان عَورت سے کہہ کر پطر س کو اندر لے گیا۔ 17اُس لَونڈی نے جو دربان تھی پطر س سے کہا کیا تُو بھی اِس شخص کے شاگِردوں میں سے ہے؟
اُس نے کہا مَیں نہیں ہُوں۔
18نَوکر اور پیادے جاڑے کے سبب سے کوئِلے دہکا کر کھڑے تاپ رہے تھے اور پطر س بھی اُن کے ساتھ کھڑا تاپ رہا تھا۔
سردار کاہِن یِسُوؔع پر جرح کرتاہے
(متّی۲۶:۵۹-۶۶؛مرقس۱۴:۵۵-۶۴؛ لُوقا ۲۲:۶۶-۷۱)
19پِھرسردار کاہِن نے یِسُو ع سے اُس کے شاگِردوں اور اُس کی تعلِیم کی بابت پُوچھا۔ 20یِسُو ع نے اُسے جواب دِیا کہ مَیں نے دُنیا سے عِلانِیہ باتیں کی ہیں ۔ مَیں نے ہمیشہ عِبادت خانوں اور ہَیکل میں جہاں سب یہُودی جمع ہوتے ہیں تعلِیم دی اور پوشِیدہ کُچھ نہیں کہا۔ 21تُو مُجھ سے کیوں پُوچھتا ہے؟ سُننے والوں سے پُوچھ کہ مَیں نے اُن سے کیا کہا ۔ دیکھ اُن کو معلُوم ہے کہ مَیں نے کیا کیا کہا۔
22جب اُس نے یہ کہا تو پیادوں میں سے ایک شخص نے جو پاس کھڑا تھا یِسُو ع کے طمانچہ مار کر کہا تُو سردار کاہِن کو اَیسا جواب دیتا ہے؟۔
23یِسُو ع نے اُسے جواب دِیا کہ اگر مَیں نے بُرا کہا تو اُس بُرائی پر گواہی دے اور اگر اچھّا کہا تو مُجھے مارتا کیوں ہے؟۔
24پس حنّا نے اُسے بندھا ہُؤا سردار کاہِن کائِفا کے پاس بھیج دِیا۔
پطرس یِسُوؔع کا دوبارہ اِنکار کرتاہے
(متّی۲۶:۷۱-۷۵؛مرقس۱۴:۶۹-۷۲؛ لُوقا ۲۲: ۵۸-۶۲)
25شمعُو ن پطر س کھڑا تاپ رہا تھا ۔ پس اُنہوں نے اُس سے کہا کیا تُو بھی اُسکے شاگِردوں میں سے ہے؟
اُس نے اِنکار کر کے کہا مَیں نہیں ہُوں۔
26جِس شخص کا پطر س نے کان اُڑا دِیا تھا اُس کے ایک رِشتہ دار نے جو سردار کاہِن کا نَوکر تھا کہا کیا مَیں نے تُجھے اُس کے ساتھ باغ میں نہیں دیکھا؟۔
27پطر س نے پِھر اِنکار کِیا اور فَوراً مُرغ نے بانگ دی۔
یِسُوؔع کی پیلاطُس کے سامنے پیشی
(متّی ۲۷:۱-۲،۱۱-۱۴؛ مرقس ۱۵:۱-۵؛ لُوقا ۲۳:۱-۵ )
28پِھر وہ یِسُو ع کو کائِفا کے پاس سے قلعہ کو لے گئے اور صُبح کا وقت تھا اور وہ خُود قلعہ میں نہ گئے تاکہ ناپاک نہ ہوں بلکہ فَسح کھا سکیں۔ 29پس پِیلا طُس نے اُن کے پاس باہر آ کر کہا تُم اِس آدمی پر کیا اِلزام لگاتے ہو؟۔
30اُنہوں نے جواب میں اُس سے کہا کہ اگر یہ بدکار نہ ہوتا تو ہم اِسے تیرے حوالہ نہ کرتے۔
31پِیلا طُس نے اُن سے کہا اِسے لے جا کر تُم ہی اپنی شرِیعت کے مُوافِق اِس کا فَیصلہ کرو ۔
یہُودِیوں نے اُس سے کہا ہمیں رَوا نہیں کہ کِسی کو جان سے ماریں۔ 32یہ اِسلِئے ہُؤا کہ یِسُو ع کی وہ بات پُوری ہو جو اُس نے اپنی مَوت کے طرِیق کی طرف اِشارہ کر کے کہی تھی۔
33پس پِیلا طُس قلعہ میں پِھر داخِل ہُؤا اور یِسُو ع کو بُلا کر اُس سے کہا کیا تُو یہُودِیوں کا بادشاہ ہے؟۔
34یِسُو ع نے جواب دِیا کہ تُو یہ بات آپ ہی کہتا ہے یا اَوروں نے میرے حق میں تُجھ سے کہی؟۔
35پِیلا طُس نے جواب دِیا کیا مَیں یہُودی ہُوں؟ تیری ہی قَوم اور سردار کاہِنوں نے تُجھ کو میرے حوالہ کِیا۔ تُو نے کیا کِیا ہے؟۔
36یِسُوؔع نے جواب دِیا کہ میری بادشاہی اِس دُنیا کی نہیں ۔ اگر میری بادشاہی دُنیا کی ہوتی تو میرے خادِم لڑتے تاکہ مَیں یہُودِیوں کے حوالہ نہ کِیا جاتا ۔ مگر اب میری بادشاہی یہاں کی نہیں۔
37پِیلا طُس نے اُس سے کہا پس کیا تُو بادشاہ ہے؟
یِسُو ع نے جواب دِیا تُو خُود کہتا ہے کہ مَیں بادشاہ ہُوں ۔ مَیں اِس لِئے پَیدا ہُؤا اور اِس واسطے دُنیا میں آیاہُوں کہ حق پر گواہی دُوں ۔ جو کوئی حقّانی ہے میری آواز سُنتا ہے۔
یِسُوؔع کو سزائے مَوت سُنائی جاتی ہے
(متّی ۲۷:۱۵-۳۱؛ مرقس ۱۵:۶-۲۰؛ لُوقا ۲۳: ۱۳-۲۵)
38پِیلاطُس نے اُس سے کہا حق کیا ہے؟ یہ کہہ کر وہ یہُودِیوں کے پاس پِھر باہِر گیا اور اُن سے کہا کہ مَیں اُس کا کُچھ جُرم نہیں پاتا۔ 39مگر تُمہارا دَستُور ہے کہ مَیں فَسح پر تُمہاری خاطِر ایک آدمی چھوڑ دِیا کرتا ہُوں ۔ پس کیا تُم کو منظُور ہے کہ مَیں تُمہاری خاطِر یہُودِیوں کے بادشاہ کو چھوڑ دُوں؟۔
40اُنہوں نے چِلاّ کر پِھر کہا کہ اِس کو نہیں لیکن برابّا کو ۔ ا ور برابّا ایک ڈاکُو تھا۔
سبحان اللھ
Faizan e Sultan ul Faqr
Hazrat skhi Sultan Asghar Ali ra
Haq Baho such Baho
waalikum salam g
Kia bat hy
سبحان الله
ماشاء الله
✨🌺🌺✨🌺🌺✨
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
✨🌺🌺🌺🌺🌺✨
✨✨🌺🌺🌺✨✨
✨✨✨🌺✨✨✨
Mashallah ❤
EXCLUSIVE approach
SubhanAllah
❤️❤️❤️❤️
اللهمَّﷺصَلِّﷺوَسَـــلِّمْﷺوَبَارِكﷺْ ﷺْعلىﷺنَبِيِّنَـــاﷺمُحمَّدﷺ❤❤